WhisperDog

Stories: سنا ہے کہ دنیا میں سب کچھ بیچنے کے لیے ہے، مگر جب میں نے اپنی پسندیدہ کتابیں بیچ…

home alone again and just scrolling through contacts, like why does nobody ever really reach out yaar, matlab samjho na, मैं किसी को कॉल नहीं कर रहा, just sitting with thoughts

i keep thinking about that time i let my friend take the fall for something i did, and now every time i see them, it feels like a weight i can't shake off, like they are still paying for my mistake.

سنا ہے کہ دنیا میں سب کچھ بیچنے کے لیے ہے، مگر جب میں نے اپنی پسندیدہ کتابیں بیچیں، تو کچھ نہ ملا۔ بس وہ خوشیوں کی باتیں، یادیں اور خواب، پیسہ تو کچرے کے برابر ہی رہ گیا۔

سنا ہے کہ دنیا میں سب کچھ بیچنے کے لیے ہے، مگر جب میں نے اپنی پسندیدہ کتابیں بیچیں، تو کچھ نہ ملا۔ بس وہ خوشیوں کی باتیں، یادیں اور خواب، پیسہ تو کچرے کے برابر ہی رہ گیا۔